اُڈپی،17؍اپریل (ایس او نیوز) ریاست میں حجاب پر امتناع کے خلاف لڑائی میں پیش پیش رہنے والی اُڈپی کی ایک 17 سالہ باحجاب طالبہ نے وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی کو ٹویٹ کرتے ہوئے ایک بار پھر اپیل کی ہے کہ وہ ریاست کرناٹک کی باحجاب طالبات کا مستقبل تباہ ہونے سے بچائے۔ طالبہ نے لکھاہے کہ ان کے پاس ابھی بھی ایک موقع ہے کہ وہ ہمارے مستقبل کو تباہ ہونے سے روک سکتے ہیں۔ ریاستی سطح کی کراٹے چمپئن عالیہ اسدی نے اپنی اپیل میں کہا ہے کہ حجاب پر امتناع سے کئی طالبات متاثر ہوں گی جو جاریہ ماہ کے اواخر میں منعقدہ پری یونیورسٹی امتحانات میں حصہ لینے کی خواہاں ہیں۔
انہوں نے بومئی کو ٹیگ کرتے ہوئے ٹویٹ میں لکھا ”آپ کے پاس ابھی بھی ایک موقع ہے کہ آپ ہمارے مستقبل کو تباہ ہونے سے روکیں۔ آپ ہمیں حجاب پہن کر امتحان تحریر کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ برائے مہربانی اس پر غور کریں۔ ہم اس ملک کا مستقبل ہیں“۔ ریاست میں حجاب پر امتناع کے خلاف عدالت سے رجوع ہونے والے درخواست گزاروں میں شامل عالیہ اسدی کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلہ سے مایوس ہیں جس نے حجاب پر امتناع کو برقرار رکھا ہے۔
اب تمام درخواست گزاروں کی امیدیں سپریم کورٹ سے وابستہ ہیں۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے 15 مارچ کو ان تمام درخواستوں کو خارج کردیا تھا جن میں کلاس کے اندر حجاب پہننے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔ ریاستی حکومت کی جانب سے عائد کردہ امتناع کو برقرار رکھتے ہوئے عدالت نے کہا تھا کہ حجاب پہننا اسلام میں لازمی نہیں ہے اور تعلیمی اداروں میں یکساں لباس کے اصول پر عمل کیا جانا چاہئے۔